پاکستان میں اسلامی بینکاری کا قانونی ارتقاء: روایتی بینکاری قوانین اور شریعہ اصولوں کے مابین ہم آہنگی کا ایک تنقیدی جائزہ
بینکنگ کمپنیز ترمیمی ایکٹ 2024 کا شرعی اصولوں کی روشنی میں تنقیدی جائزہ
Keywords:
روایتی بینکاری کاقانونی ڈھانچہ, بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962, اسلامی بینکاری, سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956, بینکنگ کمپنیز ترمیمی ایکٹ 2024Abstract
This research paper presents a critical examination of the legal and Sharīʿah evolution of Islamic banking in Pakistan, with a focus on the process of incorporating Islamic provisions within the existing conventional banking regulatory framework. Adopting a qualitative research methodology grounded in Legal Doctrinal Theory. The primary data is collected through semi-structured interviews’ questions through focus group discussions (FGDs). The total number of FGDs conducted is 9 that contain 8 academicians, 5 judicial officers, 3 from Council of Islamic Ideology, 5 legal practitioners, 4 Shariah Academy Islamabad and 3 respondents one each from legislation, money Bill Drafting Department of the National Assembly and Deputy Secretary Finance from the Finance Division. Interviews were transcribed manually and then through Virginia Braun and Vitoria Clark’s thematic methodology were analyzed. For statistical analysis Google Studio, Claud and Google Gemini pro were used. The study conducts a systematic analysis of the legal texts, judicial precedents, and regulatory frameworks — in particular the Banking Companies (Amendment) Act 2024 and the Banking Companies Ordinance (BCO) 1962. The paper raises fundamental questions about the legal validity of the said Amendment Act. A central concern is that while the Federal Shariat Court (FSC), in its landmark judgment on the Prohibition of Ribā (2022), directed the complete elimination of Riba from Pakistan's economic system, the Amendment Act — by inserting Part-IIA and and repeated reaffirmation of Section 7 of the BCO — has granted Islamic banking only a nominal and structurally constrained space within an interest-based statutory framework. This legislative development has, in effect, provided renewed legal legitimacy to the existing interest-based banking system. The FSC's judgment had closed the door on the legal validity of the interest-based banking system beyond 2028, yet the Amendment Act has breathed new life into it. The FSC had also effectively suspended the operation of Sections 7 and 9 of the BCO, yet through this Amendment Act, these provisions have been given formal legislative endorsement. Moreover, the Amendment Act is also in conflict with Articles 38(f), 2, 226, and 229 of the Constitution of Pakistan, which mandate the elimination of laws repugnant to Islam and the establishment of an interest-free Islamic economic system. The paper addresses a significant research gap in the existing literature, where the structural incompatibility arising from grafting Sharīʿah provisions onto a conventional legal base — and the absence of a constitutional and legal mandate for the State Bank's key Sharīʿah regulatory institutions — is typically overlooked. The findings reveal that, notwithstanding recent amendments such as the omission of Section 25AA, the addition of Part-IIA, and the exemptions provided under Section 26A, the fundamental legal structure remains anchored in conventional financial logic, giving rise to a fragmented and dualistic financial system. Furthermore, key State Bank institutions — the Islamic Banking Department (IBD) and the Sharīʿah Advisory Committee (SAC) — continue to operate without an explicit constitutional or legal mandate, rendering them legally ultra vires and structurally vulnerable. This academic and structural discord constitutes a major impediment to meeting the FSC's 2027 deadline for a fully interest-free economy. The paper concludes that piecemeal amendments have failed to achieve the genuine objectives of Sharīʿah, and that a truly Islamized economy demands a comprehensive and systemic procedural and legal transformation.
تلخیص
زیرِ نظر تحقیقی مقالہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کے قانونی اور شرعی ارتقاء کا ایک ناقدانہ و عمیق محاکمہ پیش کرتا ہے، جس کا مرکزِ التفات مروجہ روایتی بینکاری کےقانونی ڈھانچے کے بطن میں اسلامی دفعات کی پیوند کاری کے عمل پر مرکوز ہے۔ یہ مطالعہ قانونی و نظریاتی مبادیات (legal doctrinal theory) پر استوار کیفیتی منہجِ تحقیق (qualitative research methodology) کو بروئے کار لایا ہے۔ اساسی کوائف (Primary data) مجالسِ مباحثہ (Focus group discussions) کے دوران نیم مرتب مصاحبوں (semi-structured interviews) کے ذریعے مجتمع کیے گئے ہیں۔ منعقدہ مجالسِ مباحثہ کی کل تعداد ۹ ہے، جن کے شرکاء میں ۸ اربابِ دانش و ماہرینِ تعلیم، ۵ منصب دارانِ عدلیہ، اسلامی نظریاتی کونسل کے ۳ اراکین، ۵ وکلاء، شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کے ۴ اراکین، اور ۳ دیگر مجیبین شامل ہیں؛ جن میں سے ایک کا تعلق شعبۂ تقنین (legislation)، ایک کا قومی اسمبلی کے محکمہِ مسودہ سازی برائے مالیاتی بل (money bill drafting) اور ایک کا فنانس ڈویژن سے بطور وفاقی ڈپٹی سیکرٹری فنانس ہے۔ ان مکالمات کو تحریری طورپر محفوظ (transcribe) کیا گیا اور بعد ازاں موضوعاتی منہج (thematic methodology) کے تحت ان کے تجزیہ و تفہیم کے مراحل طے کیے گئے۔ شماریاتی تجزیے کے لیے کلاڈ (Claude) اور گوگل جیمنی پرو (Google Gemini Pro) جیسی جدید تیکنیکوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ یہ مطالعہ قانونی متون، عدالتی نظائر (judicial precedents)، اور قانونی فریم ورک کے اجزاء—بالخصوص بینکنگ کمپنیز (ترمیمی) ایکٹ 2024 اور بینکنگ کمپنیز آرڈیننس (BCO) 1962—کا ایک منظم اور سنجیدہ تجزیہ پیش کرتا ہے۔ یہ مقالہ مذکورہ ترمیمی ایکٹ کے قانونی و آئینی جواز (legal validity & constitutional ) کا اساسی نوعیت کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس حوالے سے مذکورہ ترمیمی ایکٹ پر ایک صریح قانونی اعتراض یہ وارد ہوتا ہے کہ جہاں وفاقی شرعی عدالت نے امتناعِ ربا (2022) کے اپنے شہرہ آفاق و تاریخی فیصلے میں پاکستان کے معاشی نظام سے سود کے کلی انسداد کا حکم صادر فرمایا تھا، وہیں سٹیٹ بینک آف پاکستان ا ور پالیسی سازوں نے اس ترمیمی ایکٹ کی وساطت سے—بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 میں عدالتی حکم کے باوجود حصہ دوم-الف (Part-IIA) اور دفعہ 7 کو شامل کر کے صریح حکم عدولی کا ارتکاب کیا ہے—اور اسلامی بینکاری کو سودی انضباطی ڈھانچے کے اندر محض برائے نام اور ساختی اعتبار سے ایک مقید و محدود گنجائش فراہم کی ہے، جو سود کے مکمل خاتمے سے عوامی توجہ بھٹکانے کے مترادف ہے۔ اس امر کا قوی شبہ ہے کہ پالیسی ساز اس معاملے کو طوالت دینے کے خواہاں ہیں؛ کیونکہ قانون سازی کی اس حالیہ پیشرفت نے، درحقیقت، مروجہ سودی بینکاری کے نظام کو از سرِ نو قانونی جواز بخش دیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے نے 2028 کے بعد سودی بینکاری نظام کے قانونی جواز کے در واشگاف انداز میں بند کر دیے تھے، تاہم اس ترمیمی ایکٹ نے گویا اس مٹیار ڈھانچے میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے بی سی او کی دفعات 7 اور 9 کے نفاذ کو بھی مؤثر پیرائے میں معطل کر دیا تھا، مگر اس ترمیمی ایکٹ کے بل بوتے پر ان دفعات کو باقاعدہ تشریعی توثیق (legislative endorsement) عطا کر دی گئی ہے۔ مزید برآں، یہ ترمیمی ایکٹ آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 38(f)، 2، 226، اور 229 سے بھی صریحاً متصادم ہے، جو منافیِ اسلام قوانين کے تدارک اور ایک غیر سودی اسلامی معاشی نظام کے قیام کے متقاضی ہیں۔
یہ مقالہ موجودہ علمی و تحقیقی ذخیرے کی اس نمایاں تشنگی (research gap) کو دور کرتا ہے، جہاں روایتی قوانین کی ایک کمزور و ناپائیدار اساس پر شرعی دفعات کی پیوند کاری کرنے سے پیدا ہونے والی ساختی و قانونی عدم مطابقت (structural and legal incompatibility) نے ایک مستقل قومی الجھن کو جنم دیا ہے۔ بینکنگ کمپنیز آر ڈیننس میں مذکورہ ترمیم لا کر پالیسی سازوں نے اسٹیٹ بینک کے لیے، اسلامی بینکاری کے عمل کے فروغ کے لیے مطلوبہ قانونی و اداراجاتی اختیار کو قانونی حیثیت دینے، اور اسٹیٹ بینک کے پہلے سے کیے گئے اقدامات کے حق میں آئینی و قانونی اختیار (mandate) کی عدم موجودگی کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ تحقیق کے نتائج اس امر کے غماز ہیں کہ حالیہ ترامیم مثلاً دفعہ 25AA کے حذف کیے جانے، حصہ دوم-الف (Part-IIA) کے اضافے، اور دفعہ 26A کے تحت فراہم کردہ استثنیٰ کے باوجود، اساسی قانونی ڈھانچہ تاحال روایتی مالیاتی منطق کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، جو ایک ثنویت پر مبنی اور منقسم مالیاتی نظام (dualistic financial system) کو جنم دے چکا ہے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک کے کلیدی ذیلی ادارے—اسلامک بینکنگ ڈیپارٹمنٹ (IBD) اور شریعہ ایڈوائزری کمیٹی (SAC)—مسلسل کسی واضح آئینی یا قانونی اختیار کے بغیر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، جو انہیں قانونی اعتبار سے متجاوز از اختیار (ultra vires) اور ساختیاتی طور پر غیر محفوظ گردانتا ہے۔ یہ علمی اور ساختی تضاد ایک کلیتاً سود سے پاک معیشت کے قیام کے لیے وفاقی شرعی عدالت کی مقرر کردہ 2027 کی حتمی میعاد (deadline) کی تکمیل کی راہ میں ایک سنگِ گراں اور بڑی رکاوٹ ہے۔ مقالہ اس حتمی نتیجے پر پہنچتا ہے کہ جزوی و پیوند نما ترامیم (piecemeal amendments) مقاصدِ شریعت کے حقیقی حصول میں ناکام ثابت ہوئی ہیں، اور ایک حقیقی اسلامی معیشت ایک جامع، منظم، اور ہمہ گیر قانونی و ساختیاتی اصلاح نو (legal and structural transformation) کی متقاضی ہے۔
مقالے کے کلیدی الفاظ: روایتی بینکاری کاقانونی ڈھانچہ،بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962، سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956، قانونی پیوندکاری
Additional Files
Published
Issue
Section
License
Copyright (c) 2026 Majallah-e-Talim o Tahqiq

This work is licensed under a Creative Commons Attribution-NonCommercial-NoDerivatives 4.0 International License.