مال متقوم کی جدید صورتیں: ایک شرعی و تحقیقی جائزہ

Authors

  • wasi ur rehman Markaz Ta'aleem-o-Tahqiq

Keywords:

مال متقوم, جدیدصورتیں, تحقیقی جائزہ

Abstract

یہ مقالہ مالِ متقوم کے کلاسیکی فقہی تصور اور اس کی جدید صورتوں کے باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے۔ انسانی معاشرت میں مال ہمیشہ محض ایک اقتصادی وسیلہ نہیں رہا، بلکہ شریعتِ مطہرہ نے اس کی تعریف، شرائط، اقسام اور استعمال کے دائرے کو اصولی انداز میں متعین کیا ہے۔ موجودہ دور میں جب غیر مادی، ڈیجیٹل اور حقّی صورتیں بھی معاشی لین دین کا حصہ بن چکی ہیں تو یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ کیا وہ تمام اشیا جن کا جسمانی وجود نہیں، مگر جن سے عرفاً منفعت حاصل ہوتی ہے اور جن کی خرید و فروخت معاشرتی و تجارتی سطح پر رائج ہے، شریعت کی اصطلاح میں مال کہلائیں گی یا نہیں؟

مقالے میں پہلے مال کی لغوی و اصطلاحی تعریفات، اس کے شرائط، اور مالِ متقوم و غیر متقوم کی تقسیم پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے بعد ائمہ اربعہ کی آراء کو جمع کر کے یہ واضح کیا گیا ہے کہ مال کی تعریف میں صرف عینِ محسوس کو داخل سمجھا جائے یا منافع، حقوق اور غیر مادی منافع بھی اس میں شامل ہوں۔ پھر حقوقِ مجردہ، حقِ تالیف و طباعت، ٹریڈ مارک، تجارتی لائسنس، فضائی حقوق، ڈیجیٹل اثاثے، ایپس، گیمز، سوشل میڈیا چینلز، سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے فقہی تطبیق پیش کی گئی ہے۔

تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ مال کے باب میں عرف، منفعت، قابلیتِ ادخار، شرعی جواز اور معاشرتی قبولیت بنیادی عناصر ہیں۔ جو چیز عرف میں مال سمجھی جائے، جس سے شرعاً نفع اٹھانا جائز ہو، اور جس میں غرر، ضرر، دھوکہ یا حرمت کا پہلو نہ ہو، وہ مالِ متقوم قرار دی جا سکتی ہے۔ اسی بنا پر بہت سی جدید صورتیں، مثلاً کاپی رائٹ، ٹریڈ مارک، لائسنس، جائز ڈیجیٹل اثاثے اور وہ ڈیجیٹل کرنسیاں جو معتبر قبولیت اور قانونی وضاحت رکھتی ہوں، مالِ متقوم کے دائرے میں آ سکتی ہیں؛ البتہ جو صورتیں شرعی موانع، دھوکہ، محض وہم، جوے یا ناجائز استعمال پر مبنی ہوں، وہ اس دائرے سے خارج رہیں گی۔

Published

31-03-2026